23 ستمبر 2026 - 15:19
داعش سے وابستگی کے الزام میں فرانسیسی شہری کو 30 سال قید کی سزا

پیرس کی ایک خصوصی عدالت نے 32 سالہ فرانسیسی شہری عثمان گاریدو کو داعش میں شمولیت اور شام میں دو ایرانی شہریوں کی پھانسی میں شرکت کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنائی ہے، جس میں کم از کم 20 سال تک مشروط رہائی کی اجازت نہیں ہوگی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فرانس کی ایک عدالت نے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد عثمان گاریدو کو شام میں منظم گروہ کے ذریعے قتل کے جرم اور دہشت گرد گروہ داعش میں شمولیت کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنائی۔

الجزیرہ کے مطابق، گاریدو کو ستمبر 2015 میں شام میں دو ایرانی شہریوں کی سرعام پھانسی سے تعلق کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا، تاہم اس الزام سے بری کردیا گیا کہ اس نے خود ذاتی طور پر پھانسی دی تھی۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق، گاریدو کو 20 سال تک مشروط رہائی کی اجازت نہیں ہوگی۔

گاریدو نے مقدمے کی سماعت کے دوران مسلسل اصرار کیا کہ اس نے کبھی کسی کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی کسی پھانسی کی کارروائی میں حصہ لیا، تاہم 21 ستمبر 2026 کو جب شام میں 2015 کے دوران ہونے والے سرعام سر قلم کیے جانے کے واقعے کے بارے میں اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ جواب دینے سے قاصر رہا، جبکہ اس پر اسی واقعے سے متعلق قتل میں شرکت کے الزام میں مقدمہ چل رہا تھا۔

اس خبر کے مطابق، خود کو «ابو سلمان الفرنسی» کہنے والے اس فرانسیسی شہری کو 2020 میں ترکی میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں فرانس منتقل کردیا گیا۔ وہ 2012 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے پیرس چھوڑ کر شام گیا تھا۔

نوجوانوں کی فوجداری عدالت نے اپریل 2017 میں اسے غیرحاضری میں شام میں داعش میں شمولیت، وہاں تربیتی پروگراموں اور لڑائیوں میں حصہ لینے اور فرانس میں مسلمانوں کو پُرتشدد کارروائیوں کے لیے اکسانے کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اس کے خاندان کے مزید چار افراد، جن میں اس کے والدین اور دو بھائی شامل ہیں اور جو شام گئے تھے، کو بھی اسی مقدمے میں 10 سے 15 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ دہشت گرد گروہ داعش نے 2014 میں خلافت قائم کرنے کے مقصد سے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا، تاہم اس کے منصوبے ناکام ہوگئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha